سیلز ٹیکس رجسٹریشن کس کو کرانی ہوتی ہے؟
سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے تحت مینوفیکچررز، درآمد کنندگان، برآمد کنندگان جو ریفنڈ لینا چاہیں، ہول سیلرز، ڈسٹری بیوٹرز اور قانون میں بیان کردہ ریٹیلرز کو رجسٹریشن کرانی ہوتی ہے۔ کئی بڑی کمپنیاں اور سرکاری ادارے بھی صرف رجسٹرڈ سپلائرز سے خریداری کرتے ہیں۔ اشیا پر سیلز ٹیکس ایف بی آر کے پاس، جبکہ خدمات پر سیلز ٹیکس صوبائی اداروں کے پاس ہوتا ہے، جیسے پنجاب میں پنجاب ریونیو اتھارٹی۔
ضروری کاغذات اور معلومات
| ضرورت | تفصیل |
|---|---|
| این ٹی این | کاروبار یا مالک کی ٹیکس رجسٹریشن |
| کاروباری بینک اکاؤنٹ | بینک کا سرٹیفکیٹ |
| کاروبار کی جگہ | ملکیت یا کرایہ نامہ اور بجلی کا بل |
| جگہ کی تصاویر | جی پی ایس والی تصاویر، جیسا ایف بی آر مانگے |
| بایومیٹرک تصدیق | نادرا ای سہولت مرکز پر |
آئرس پر ایس ٹی آر این کے مراحل
- آئرس پر لاگ اِن کر کے سیلز ٹیکس رجسٹریشن کا فارم کھولیں۔
- کاروبار کی نوعیت، پتہ، بینک اکاؤنٹ اور بجلی کے میٹر کی تفصیل درج کریں۔
- مطلوبہ کاغذات اور تصاویر اپ لوڈ کریں۔
- نادرا ای سہولت مرکز پر بایومیٹرک تصدیق کرائیں۔
- ایف بی آر کی جانچ کے بعد رجسٹریشن فعال ہو جاتی ہے۔
رجسٹریشن کے بعد کی ذمہ داریاں
رجسٹرڈ شخص ہر ماہ سیلز ٹیکس گوشوارہ جمع کراتا ہے، جس کی آخری تاریخ عام طور پر اگلے ماہ کی 18 تاریخ ہے، چاہے اس ماہ کوئی فروخت نہ ہوئی ہو۔ سیلز ٹیکس انوائس قانون کے مطابق جاری کرنا اور خرید و فروخت کا ریکارڈ رکھنا ضروری ہے۔ گوشوارہ نہ جمع کرانے پر جرمانہ اور رجسٹریشن معطل ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔
صوبائی سیلز ٹیکس برائے خدمات
اگر آپ خدمات فراہم کرتے ہیں تو صوبے کی سطح پر الگ رجسٹریشن درکار ہو سکتی ہے، جیسے پنجاب میں پنجاب ریونیو اتھارٹی، سندھ میں سندھ ریونیو بورڈ۔ پنجاب سیلز ٹیکس کا گوشوارہ عام طور پر ہر ماہ کی 15 تاریخ تک جمع ہوتا ہے۔ تمام تاریخیں ہمارے ٹیکس کیلنڈر میں دی گئی ہیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
نہیں۔ یہ کاروبار کی نوعیت پر منحصر ہے، جیسے مینوفیکچرنگ، درآمد، ڈسٹری بیوشن یا قانون میں بیان کردہ ریٹیلرز۔ خدمات کے لیے صوبائی رجسٹریشن الگ ہوتی ہے۔
نادرا کے ای سہولت مراکز پر، جہاں درخواست دہندہ یا مجاز شخص کی انگلیوں کے نشانات کی تصدیق کی جاتی ہے۔
پھر بھی ماہانہ سیلز ٹیکس گوشوارہ جمع کرانا ضروری ہے، جسے صفر گوشوارہ کہا جاتا ہے۔
صوبائی اداروں کے پاس، جیسے پنجاب ریونیو اتھارٹی، سندھ ریونیو بورڈ اور خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی۔
ماخذ: ایف بی آر کی سرکاری ویب سائٹ اور آئرس پورٹل۔ یہ معلومات عمومی رہنمائی کے لیے ہیں؛ استعمال سے پہلے سرکاری نوٹیفیکیشن سے تصدیق کریں۔