ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ کیا ہے؟
ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ ایف بی آر کی وہ فہرست ہے جس میں وہ افراد اور کاروبار شامل ہوتے ہیں جنہوں نے پچھلے ٹیکس سال کا گوشوارہ جمع کرایا ہو۔ اس فہرست میں شامل لوگوں کو عام طور پر "فائلر" کہا جاتا ہے۔ بینک، پراپرٹی رجسٹرار اور گاڑی رجسٹریشن کے ادارے اسی فہرست کو دیکھ کر ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح طے کرتے ہیں۔
اپنا اے ٹی ایل اسٹیٹس کیسے چیک کریں؟
- اپنے موبائل سے ATL لکھ کر اسپیس دیں، پھر شناختی کارڈ نمبر لکھ کر 9966 پر ایس ایم ایس کریں۔
- ایف بی آر کی ویب سائٹ پر ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ کی آن لائن سہولت استعمال کریں۔
- ایف بی آر کی ٹیکس آسان ایپ میں بھی اسٹیٹس دیکھا جا سکتا ہے۔
فائلر اور نان فائلر میں فرق
| معاملہ | فائلر | نان فائلر |
|---|---|---|
| بینک منافع پر ٹیکس | کم شرح | زیادہ شرح |
| جائیداد کی خرید و فروخت | کم ود ہولڈنگ ٹیکس | زیادہ ود ہولڈنگ ٹیکس |
| گاڑی کی رجسٹریشن | کم ایڈوانس ٹیکس | زیادہ ایڈوانس ٹیکس |
| سرکاری ٹینڈر اور کاروباری معاہدے | آسان | مشکل |
شرحوں کا موازنہ ہمارے فائلر بمقابلہ نان فائلر کیلکولیٹر سے کیا جا سکتا ہے۔
دیر سے گوشوارہ جمع کرانے پر سرچارج
جو شخص آخری تاریخ کے بعد گوشوارہ جمع کرائے، اسے ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ میں شامل ہونے کے لیے سیکشن 182A کا سرچارج ادا کرنا ہوتا ہے: افراد کے لیے 25,000 روپے، اے او پی کے لیے 50,000 روپے اور کمپنی کے لیے 100,000 روپے۔ یہ سیکشن 182 کے دیر سے فائلنگ والے جرمانے کے علاوہ ہے۔ جرمانے کا اندازہ ہمارے دیر سے فائلنگ جرمانہ کیلکولیٹر سے لگائیں۔
اے ٹی ایل میں رہنے کا آسان اصول
ہر سال آخری تاریخ سے پہلے گوشوارہ اور ویلتھ اسٹیٹمنٹ جمع کرائیں، اور جمع کرانے کے بعد اپنا اسٹیٹس چیک کر لیں۔ گوشوارہ جمع کرانے کا طریقہ ہماری انکم ٹیکس گوشوارہ گائیڈ میں ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
ATL لکھیں، اسپیس دیں، پھر 13 ہندسوں کا شناختی کارڈ نمبر لکھ کر 9966 پر بھیج دیں۔ جواب میں آپ کا اسٹیٹس آ جائے گا۔
سیکشن 182A کے تحت افراد کے لیے 25,000 روپے، اے او پی کے لیے 50,000 روپے اور کمپنی کے لیے 100,000 روپے، جو دیر سے فائلنگ کے جرمانے کے علاوہ ہے۔
بینک منافع، جائیداد اور گاڑی جیسے معاملات میں کم ود ہولڈنگ ٹیکس، اور کاروباری اور سرکاری معاملات میں آسانی۔
وقت پر جمع کرائے گئے گوشوارے کے بعد نام ایف بی آر کی اپڈیٹ ہونے والی فہرست میں آتا ہے۔ جمع کرانے کے بعد اسٹیٹس ضرور چیک کریں۔
ماخذ: ایف بی آر کی سرکاری ویب سائٹ اور آئرس پورٹل۔ یہ معلومات عمومی رہنمائی کے لیے ہیں؛ استعمال سے پہلے سرکاری نوٹیفیکیشن سے تصدیق کریں۔